Uncategorized

دولتِ عثمانیہ میں روحانی پیشواؤں کا کردار

چرواھوں دولتِ عثمانیہ کا ایک قبیلہ صدیوں پہلے سلیمان شاہ کے والد کائیا الپ کے ساتھ ھجرت کر کے نامصائب حالات اور موسموں کی سختیوں کا سامنا کرتے ھوئے. اور منگولوں اور تاتاریوں کے ظلم اور استبداد کو سہتے ھوئے ترک زمینوں پر بسنے کی خواہش لئے آیا. تو کوئی نہیں جانتا تھا کہ حائمہ ھاتون اور سلمان شاہ کی گود میں کھیلتا کودتا. ان کا تیسرے نمبر کا بیٹا ارتغل انہی سر زمینوں کو اپنا وطن بنانے کی جدوجہد کرے گا۔اور پھر ارتغل نے جو خواب ان سرزمینوں کو اپنا بنانے کا دیکھا تھا اس کا سب سے چھوٹا بیٹا ” کاراعثمان ” اس خواب کی تعبیر بن جائے گا۔اور تین بر اعظموں پر چھ سوسال تک حکومت کرنے والی سلطنت کی بنیاد رکھے گا

سلطنت عثمانیہ

سلطنت عثمانیہ دولتِ عثمانیہ کی بنیاد ایک ہی دن میں نہیں پڑ گئی تھی. اس کے پیچھے سینکڑوں لوگوں کی قربانیوں کی ایک طویل جدوجہد کی داستان تھی۔ماوں کے ھزاروں لعل تھے جنہوں نے اپنے لہو سے اپنے وطن کی مٹی کو سینچا تھا۔وہ مجاھد تھے جن کا سونا جاگنا اور سانس لینا بھی اللہ اور اللہ کے رسول کے نام پر قائم وطن کی خواھش تھی۔گو کہ اس جدوجہد میں بنیادی کردار سلمان شاہ کے بیٹے ارتغل غازی نے ادا کیا. جو ایک بہادر ولولہ انگیز پرجوش سچا مسلمان تھا. اور اگر ھم یہ کہیں کہ وہ اس کام کے لئے اللہ کی طرف سے ہی چنا گیا تھا تو کچھ مبالغہ نہ ھوگا۔

ابن العربی

نیک مقصد کو حاصل کر نے کے لئے اللہ تعالی نے. جہاں ارتغل کو بہادری’ ھمت’ شجاعت’ زھانت اور منصوبہ سازی کی صلاحیت عطا کی. وہیں بہت سی روحانی مدد بھی مہیا کی۔اس کی مثال۔اس دور کے روحانی کرامتوں والے بزرگ’عارف’محقق. اور باطنی علوم کے بحر خزینہ شیخ محی الدین بن محمد بن علی ابن العربی تھے.جنہوں نے قدم قدم پر ارتغل کی عملی اور روحانی طور پر راھنمائی اور مدد کی۔

کہا جاتا ھے کہ مملکت عثمانیہ کا قیام ابن العربی کی روحانی مدد اور راہنمائی کے بغیر ممکن نہ تھا

حاتم طائی

ابن العربی اندلس کے شہر مرسیہ میں (1165ء) میں ایک خوشحال اور معزز گھرانے میں پیدا ھوئے۔آپکے خاندان کا سلسلہء نسب مشہور زمانہ حاتم طائی کے خاندان سے ملتا ھے ۔آپکو بچپن ہی سے علمی اور ادبی لوگوں کی صحبت میسر ھوئی۔اور مروجہ دینی اور باطنی علوم نے آپکے مزاج کو صوفیانہ جہت دی۔

۔تاریخ کے ان صوفی بزرگ کو ان کی علمی اور روحانی وجہ سے شیخ الاکبر کے خطاب سے نوازا گیا تھا۔عام خیال یہ ھے کہ وحدت الوجود کا تصور سب سے پہلے ابن العربی ہی نے متعارف کروایا۔ان کا قول تھا کہ باطنی نور خود انسان کی راہنمائی کرتا ھے۔

دینی اور باطنی علوم کے موضوعات

آپنے دینی اور باطنی علوم کے موضوعات پر 500 سے زیادہ کتب تحریر فرمائیں۔فتوحات المکیہ آپکی مشہور تصانیف میں سے ایک ھے

آپ روحانیت کے اعلے درجہ پر فائز تھے۔اور بے شمار مرتبہ ارتغل غازی کے مشکل وقت میں باطنی قوت کے ساتھ معجزانہ طور پر روحانی اور عملی مدد کو پہنچتے رھے کیونکہ آپ جانتے تھے کہ وہ سچائی کے راستے پر اللہ کا مجاھد ھے۔

روحانی قوت

ڈرامہ ارتغل میں بھی جہاں کہیں مجاھدوں کو کسی مشکل اور پریشانی نے گھیرا ابن العربی وہیں ان کی مدد کو آ موجود ھوئے اور پھر انتہائی محبت نرمی اور کمال مہربانی سے روح میں اتر جانے والے انداز میں قرآن و احادیث کی بر وقت مثالیں دے کر معاملے کو فصاحت و بلاغت کے ساتھ حل فرماتے۔اور یہی وہ روحانی قوت تھی جو ھمیشہ ارتغل کی مدد گار رہی۔

صحبت سے فیض یاب

ابن العربی دولتِ عثمانیہ مختلف ادوار میں مختلف ملکوں مثلا”مراکش ‘بغداد’قاھرہ’مدینہ اور مکہ جیسے شہروں کا دورہ کرتے رھے اور نہ صرف اپنے علوم کے زریعہ لوگوں کے زہنوں کی آبیاری کرتے رھے بلکہ خود بھی بہت سے جید صوفی بزرگوں کی صحبت سے فیض یاب ھوئے

آخر اسی سفر کی کیفیت میں (1240ء) میں آپ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
انا للہ وانا علیہ راجعون
نازنین_مقیت#

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button

Adblock Detected

Please Turn off Your Adblocker. We respect your privacy and time. We only display relevant and good legal ads. So please cooperate with us. We are thankful to you!