Uncategorized

سلطنت عثمانیہ کی تعمیر میں روحانی ھستیوں کا کردار

تین براعظموں پر سلطنت عثمانیہ پھیلی چھ سو سال تک قائم سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان بن آرتغل بن سلمان شاہ بن کائیا الپ قدرتی اور پیدائشی طور پر انتہائی شجاع ‘ دلیر ‘جنگجو اور با ھمت تھے۔اور مزید اس پرانتہائی زھین ‘معاملہ فہم ‘ ماھرانہ جنگی سازشوں کی پلاننگ ‘دشمن کے لئے جال پھیلا کر اس کو اپنے شکنجے میں کسنا ‘اور دشمن کے گھر میں گھس کر ان کی چال کو انہی پر پلٹ دینے کے ماھر تھے۔

ارتغل غازی کا شجاعت

اگر ایک طرف آپکی رگوں میں دوڑتا ارتغل غازی کا شجاعت سے بھرا لہو آپکو ھر وقت بے چین رکھتا تھا. تو دوسری جانب ماں کی جانب سے ملی سلجوک شہزادی کے خون کی حرارت آپکو ھر وقت میدان جنگ میں سر گرم رکھتی تھی۔

جہاں طویل جدوجہد کے نتیجہ میں آپکے بے شمار جنگجو ساتھیوں نے شجاعت اور دلیری کی بے شمار داستانیں رقم کیں وہیں. آپکے روحانی راہنما شیخ ادیبالی نے بھی آپکے ارادوں اور کردار کی پختگی میں بہت اھم رول ادا کیا۔اور سلطنت عثمانیہ کو ترتیب دینے اور پالیسہاں مرتب کرنے میں بہت مدد کی

ایدیبالی

ایدیبالی 1206ء میں عرب کے قدیم قبیلہ بنو تمیم میں پیدا ھوئے. جو ایک معزز علمی اور ادبی تاجرگھرانہ تھا ۔آپکے خاندان کا تعلق آہی برادری سے تھا۔آہی برادری چمڑے کے کاروبار سے منسلک کاریگروں اور ھنر مندوں کی برادری تھی. جن کا کام اس وقت کے ھر طبقہ میں پسند کیا جاتا تھا۔تاریخ شیخ ایدیبالی کو جہاں ایک ھنر مند اور کاریگر کے طور پر متعارف کرواتی ھے وہیں. انہیں ایک اعلی درجہ کی روحانی شخصیت کا درجہ بھی دیتی ھے۔ارتغل غازی بھی اکثر آپکی صحبت سے فیضیاب ھوا کرتے تھے۔اس طرح شیخ ایدیبالی کی صحبت ابن العربی سے بھی ثابت ھے۔جب منگولوں اور تا تاریوں کے ظلم سے دل برداشتہ ھو کر آپ اپنے خاندان اور آہی کاریگروں اور ھنر مندوں کے ساتھ خراسان سے ھجرت کر کے آئے تو اناطولیہ کو اپنا ٹھکانہ بنایا۔

عثمان آپکی درس و تدریس

یہاں آپکی ملاقات ارتغل اور پھر بعد ازاں عثمان سے ھوئی۔اور عثمان آپکی درس و تدریس کے مقدس روحانی ماحول میں آپکی خدمت میں اکثر و بیشتر حاضر ھو کر آپکی صحبت اور روحانی تعلیمات سے فیض پاتا رھا۔

شیخ ایدیبالی کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں اور سینکڑوں شاگرد تھے. جو ان سے روحانیت ‘ ھنر مندی و کاریگری کی تعلیم پاتے تھے۔آپنے اپنے شاگردوں کی مدد سے ایک درسگاہ بھی قائم کی تھی. آپکے شاگرد درویش کہلاتے تھے. یہی وہ جگہ تھی جہاں عثمان نے جب آپکی خوبصورت اور زہین بیٹی رابعہ بالا خاتون کو دیکھا تو بالا کی محبت میں مبتلاء ھو گیا. اور بالا خاتون کو اپنی شریک حیات بنانے کی خواھش دل میں پال لی۔ لیکن شیخ ایدیبالی کے نزدیک سماجی حیثیت میں فاصلہ کی وجہ اس رشتہ کے استوار ھونے میں رکاوٹ تھی ۔

شیخ ایدیبالی

محبت کی اس تپش نے عثمان کو اندر ہی اندر سے جلا کر کندن بنا ڈالا. اور آخر کار ایک رات جبکہ عثمان منگولوں کے ایک ممکنہ حملے کے خدشے کے پیش نظر شیخ ایدیبالی. اور ان کے خاندان اور ساتھیوں کی حفاظت کی غرض سے ان کی درسگاہ پر ہی اپنے وفادار جنگجو ساتھیوں کے ساتھ موجود تھا. کہ شیخ ایدیبالی نے اپنے خواب میں دیکھا. کہ ان کے سینے سے ایک نور اٹھا اور عثمان کے سینہ میں منتقل ھو گیا۔اس خواب نے شیخ ایدیبالی کی عثمان کے بارے میں سوچ بدل ڈالی. اور آپ نے عثمان کو اپنی سر پرستی میں لے لیا۔اور اپنی ایک مقدس تلوار عثمان کو تحفتا” دی۔

عثمان کو بہت تقویت دی

شیخ ایدیبالی نے روحانی طور پر عثمان کو بہت تقویت دی. اور اسکی زہنی نشوو نما کرنے میں بہت مددگار ثابت ھوئے۔آپکے بہت سے شاگرد جو روحانیت کے اعلی درجات پا چکے تھے. عثمان کی فتوحات میں بہت کلیدی کردار ادا کرتے رھے۔

آخر 1326ء میں شیخ ایدیبالی ترکی کے شہر بیلیچک میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
انا للہ وانا علیہ راجعون

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button

Adblock Detected

Please Turn off Your Adblocker. We respect your privacy and time. We only display relevant and good legal ads. So please cooperate with us. We are thankful to you!