Uncategorized

کورلوش عثمان قسط تینتیس کے بارے میں تاثرات

دوستو !
کورلوش عثمان قسط تینتیس سیزن 2 ایپی سوڈ 33 آن ائیر ھو چکی امید ھے سب نے اسے دیکھا اور پسند کیا ھوگا۔
گزشتہ کورلوش عثمان قسط تینتیس سے پیوستہ کہانی جال میں بنے .جال اور چال میں چلی چال کے ساتھ کچھ اور گتھیاں سلجھاتی اور کچھ نئی گرہیں لگاتی ھوئی آگے بڑھی۔جہاں تک اس پوری قسط کا تعلق تھا عثمان اپنے سر لگے بہت سے الزامات سے بری ھو گیا۔جس عقلمندی اورسمجھداری سے عثمان نے گیہاتو کے بیٹے منک کی غداری کا پردہ اس کے باپ کے سامنے فاش کیا

چنگیز خان کا پوتا

۔وہ مناظر قابل تعریف تھے۔اور جس طرح گیہاتو نے بیٹے کا فیصلہ کیا وہ حیرت انگیز تھا۔حیرت ھوئی کہ جہاں چنگیز خان کا پوتا انتہائی ظالم تھا وہیں. اتنا عقلمند’متحمل اور مذاکرات پر اتنا یقین رکھنے والا بھی تھا۔لیکن اس سے زیادہ حیرت اس بات پر ھوئی کہ اس نے اپنے بیٹے کو اتنا بھی موقع نہ دیا. کہ اس بات کو یقینی بنایا جاتا کہ منک کا مددگار اور سہولت کار کون تھا۔

ارتغل غازی

ارتغل غازی کے جنت کے راستوں پر چلنے والے قدموں میں کچھ اور تیزی آگئی ھے۔ان کی بیماری کچھ اور شدت اختیار کر گئی ھے. اور شائد اگلی ایک دو قسطوں میں ناظرین کو ان کی جدائی کے غم کا بوجھ برداشت کرنا پڑے۔لیکن حیرت اس بات پر ھے کہ اتنے بڑے اور منظم. قبیلے میں ایک بھی طبیب نہیں جو کسی ایمرجنسی میں کسی طرح کی طبی امداد فراھم کرسکے۔

ارتغل کا رول کرنے والے اداکار

ارتغل کا رول کرنے والے اداکار نے اپنی بہترین پرفارمنس کا اظہار کیا۔خاص طور پر ان کا نڈھال انداذ میں عثمان کو پکارنا اور اسکا ھاتھ پکڑ کر. اس کے سینے سے لگا رہنا ایک باپ کے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے سے محبت کے بہترین لمحوں کا اظہار تھا۔اور پھر بیٹا بھی وہ جو ان کے آباء کے خوابوں کی تعبیر بننے والا تھا۔

اینگن آلتن

بیماری کے سین میں بامسے’عبدالرحمن’گندوز‘ساوچی’عثمان’سب تھے تو ترگت اور اینگن آلتن کی بہت کمی محسوس ھوئی۔ اور پھر اس کمی کے ساتھ مجھے ترگت اور اینگن آلتن سے شدید نفرت کا احساس ھوا. کہ اگر یہ دونوں ایکٹر جنہیں عوام کی محبت اور پزیرائی نے اس مقام تک پہنچایا تھا. اپنے اپنے کرداروں میں خود موجود ھوتے تو دیکھنے والوں کے دل ان کی محبت میں خون کے آنسو روتے. لیکن انہیں بھلا دیکھنے والوں کے احساسات کی کیا پرواہ تھی.

عبدالرحمن اور سیلجن

انہیں تو اس امیج کے خراب ھونے کی پرواہ تھی جو بڑھاپے کے میک اپ سے ان کے جوان رنگ روپ پر پڑتا.اس کے لئے میں آفرین کہوں گی بامسے ‘عبدالرحمن اور سیلجن کو جنہوں نے جوانی میں بڑھاپے کے کردار قبول کرکے. اپنے محبت کرنے والے ماظرین سے بے وفائی نہیں کی۔
بامسے جس مشن کو کامیابی سے کر کے واپس آچکے ہیں اس کے بعد اس گٹ اپ کی انہیں ضرورت نہیں رہی تھی۔
سیلجن کے آنے کا جس شدت اور محبت سے ناظرین کو انتظار تھا. ان کی انٹری اتنے بھر پور انداز سے نہ ھو سکی۔اور ان کا واپس آنا کوئی بہت بڑا دھماکہ نہ کر سکا۔

گیہاتو کا رول کرنے والے اداکار نے ایک مرتبہ پھر اپنے کردار کے ساتھ انصاف کیا۔

ساوچی کے کردار کی سمجھ نہیں آرہی جہاں تک تاریخ ھمیں ساوچی کے بارے میں بتاتی ھے. وہ ایک عالم فاضل اور جدید علوم کا ماھر سلجھا ھوا عقلمند انسان تھا. لیکن اس قسط میں وہ دوبارہ ایک غصیلا اور انا پرست سردار دکھایا گیا ھے۔
گندوز جسکی پرورش اس کے باپ ‘ماں ‘ دادی’ بامسے’ترگت اور آرتک بے. جیسے بہادر جنگجووں کے ھاتھوں ھوئ. جو بچپن سے لکڑی کی تلوار اٹھا کر اپنے بھائیوں اور قبیلے کی حفاظت کا قصد کیاکرتا تھا۔دادی کا سرخ ٹانگوں والا میمنا نہ جانے. اسے کیوں پیچھے پیچھے رکھا جاتا ھے

نکولا اور فلیاٹس

حالانکہ وہ ایک بہترین بہادر جنگجو ھے۔اور بھائیوں کی محبت کے شیرے میں ڈوبا ھوا بھائی. ھمیشہ اپنے بھائیوں سے باپ کی طرح محبت کرنے والا گندوز. نہ جانے اس کے کردار کو اتنا دبا ھوا کیوں دکھایا جا رھا ھے۔ھاں آجکی قسط کے ایک سین میں اس نے بڑا بھائی ھونے کا حق ادا کردیا
ھمیشہ کی طرح آیا نکولا اور فلیاٹس نے ولن کی حیثیت سے بہترین اداکاری کے جوھر دکھائے۔ ایسا محسوس ھوتا ھےکہ یہ دونوں ھیلینا (جسے تاریخ صوفیہ کی بہن کے حوالے سے متعارف کرواتی ھے.)کی بچھائی سازشوں کی بساط پر کھیل رھے ھیں۔
نازنین مقیت

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button

Adblock Detected

Please Turn off Your Adblocker. We respect your privacy and time. We only display relevant and good legal ads. So please cooperate with us. We are thankful to you!